اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ رضی جعفر نقوی نے پاراچنار طوری بازار میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شرپسند گروہ کی کارروائیوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی معنی خیز اور قابل مذمت ہے گز شتہ کئی ماہ سے ملک بھر میں جو امن و امان کی صورتحال ہے اُس کو خراب کر نے کی کوشیش کی جارہی ہے دہشت گرد وقفے وقفے سے دہشت گردانہ کاروائیاں کر کے ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں محرم الحرام کی آمد سے پہلے اس طرح کی کاروائیوں کا ہونا سوالیہ نشان ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ شرپسند عناصرکے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کی جائے، جیسے آرمی پبلک اسکول پشاور کے 2014ء میں ہونے والے افسوسناک واقعہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ کے ذریعے ان کو ختم کردیا گیا تھا لیکن اب پھر دہشت گرد گروہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے، اس لئے اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا ہے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے ماحول میں پاکستان کا اندرونی امن بہت ضروری ہے جس کے لیے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرنا ہوگا جو سینکڑوں معصوم گناہوں کا قتل کرنے کے بعد آزادانہ گھوم رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں دہشت گردی کا قلع قمع نہ کیا گیا تو پہلے کی نسبت زیادہ قربانیاں دیناہوں گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲